کاروار یکم ؍ دسمبر (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا، اڈپی اور جنوبی کینرا جیسے ساحلی اضلاع کے علاوہ کوڈاگو ضلع میں کانگریس پارٹی کی بنیاد مستحکم کرنے اور اسےبے جے پی کا سامنا کرنے کے قابل بنانے کے لئے اب کانگریس نے جدیدٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے اپنے اڈپی دورے کے موقع پر بتایا کہ کانگریس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے جلد ہی موبائل ایپ جاری کیا جائے گا اور بوتھ لیول پر مستحکم اور مؤثر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے پاس بوتھ لیول پر ایک مضبوط کمیٹی نہیں ہوگی تو پھر یہاں انتخاب جیتنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
خیال رہے کہ ایک زمانے تک کانگریس کا گڑھ کہلانے والے ان چار اضلاع میں کُل 19اسمبلی حلقے ہیں ۔مگر اس وقت کانگریس کی حالت اس قدر خستہ ہے کہ ان میں سے صرف ہلیال اور الال جیسے دو اسمبلی حلقے ہی اس کے حصے میں باقی بچے ہیں۔
دوسری طرف دیر سے ہی سہی یہ سچائی اب کانگریس کی سمجھ میں آگئی ہے کہ اس کے خلاف پروپگنڈا کرنے، راہل ، پریانکا اور سنیاگاندھی سمیت دیگر بڑے کانگریسی لیڈروں کو نااہل اور غیرسنجیدہ ثابت کرنے اور نوجوانوں کے ذہن میں کانگریس کو ایک ہندودشمن پارٹی کے طورپر پیش کرنے کے لئے بی جے پی نےجدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا اوروہ اس میں پوری طرح کامیاب ہوگئی ہے۔ اس وجہ سے صرف جنوبی ہندوستان میں ہی نہیں پورے ملک میں کانگریس پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
لہٰذا کانگریس پارٹی اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جدید ذہن والی نوجوان نسل سے اس کا جڑنا بہت ضروری ہے اور اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی ہی کا سہارا لینے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔اس مقصد سے پارٹی جلد ہی ایک موبائل ایپلی کیشن جاری کرنے جارہی ہے، اوربوتھ لیول کمیٹیوں میں صرف نوجوانوں کو ہی جگہ دینے کا پروگرام بنارہی ہے۔
فی الحال کانگریس کا منصوبہ یہ ہے کہ کرناٹکا میں ساحلی علاقوں اور کوڈاگو کے اسمبلی حلقوں میں آئندہ الیکشن کے دوران کم از کم 50 فیصد سیٹیں تو اس کے قبضے میں آجائیں۔ ایسی صورت میں ریاستی اقتدار کی باگ دوڑ اس کے ہاتھ میں آنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔